Home - Fashion - Relationships - امریکا ہتھیاروں کا سب سے بڑا فروخت کنندہ، سعودی عرب سب سے بڑا خریدار

امریکا ہتھیاروں کا سب سے بڑا فروخت کنندہ، سعودی عرب سب سے بڑا خریدار

اسٹاک ہوم: ہتھیاروں کی عالمی سطح پر سب سے بڑا فروخت کنندہ ملک امریکا ہے جب کہ اسلحہ کی سب سے زیادہ خریداری کرنے والا ملک سعودی عرب ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امن پر تحقیق کرنے والے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2014 سے 2018 کے درمیان ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں 2009 سے 2013 کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سیپری کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک امریکا ہے، جو مجموعی طور پر 36 فیصد ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ امریکا کے بعد روس، فرانس، جرمنی اور چین اسلحے کی فروخت میں بالترتیب بڑے ممالک ہیں۔ ان پانچوں ممالک نے مجموعی طور پر دنیا بھر میں اسلحے کی فروخت میں 75 فیصد حصہ ڈالا۔خلیجی ممالک میں اسلحے کی خریداری میں 2009 سے 2013 کے مقابلے میں 2014 سے 2018 کے درمیان 87 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ سعودی عرب 2009 سے 2013 کے مقابلے میں گزشتہ چار برسوں میں 192 فیصد اضافے کے ساتھ اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والا ملک ہے۔سعودی عرب کے اسلحہ خریدنے والے ممالک میں پہلا نمبر ہونے کے بعد بالترتیب بھارت، مصر، اسرائیل، قطر اور عراق کا نمبر آتا ہے جب کہ شام میں اسلحہ کی خریداری میں کمی دیکھی گئی۔ یہ تمام اعداد و شمار 2014 سے 2018 تک کے ہیں۔واضح رہے کہ سیپری ہر چار سال بعد ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اعداد و شمار جاری کرتا ہے اور حالیہ چار برسوں کا ان سے پیوستہ چار برسوں کا تقابل کیا جاتا ہے۔

 

اسلام آباد: احتساب عدالت نے نندی پور ریفرنس میں راجہ پرویز اشرف اور بابر اعوان سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر کے ریفرنس کی سماعت ہوئی تو سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیر قانون بابر اعوان سمیت 7 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے راجہ پرویز اشرف اور بابر اعوان سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کردی لیکن سب نے صحت جرم سے انکار کیا۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فرد جرم پڑھ کر سنائی۔ عدالت نے ملزمان کا ٹرائل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کے خلاف گواہوں کو طلب کرلیا۔دیگر ملزمان میں سابق کنسلٹنٹ شمیلہ محمود، سابق جوائنٹ سیکرٹری ریاض محمود، سابق سیکرٹری شاہد رفیع، سابق سیکرٹری قانون ریاض کیانی اور مسعود چشتی شامل ہیں۔مقدمے کے مطابق ان تمام ملزمان کی غفلت کی وجہ سے نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر ہوئی جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ نندی پور معاہدے کے لئے وزارت پانی و بجلی نے وزارت قانون سے رائے مانگی تو وزارت قانون نے صرف رائے دینے میں 2 سال لگا دیے اور فائل روک کر رکھی۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس میں راجہ پرویز اشرف وزیراعظم اور بابر اعوان وزیر قانون تھے

About asas

Check Also

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جارحیت میں 3 فلسطینی نوجوان شہید

راملہ: مقبوضہ فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے 3 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے